Mickey 4 U: Articles

Hot

Showing posts with label Articles. Show all posts
Showing posts with label Articles. Show all posts

Saturday, 30 July 2016

فیس بک کے بانی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک

7:16 pm 0



ہیکرز کے ایک گروپ کی جانب سے دنیا کی سماجی روابط کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کے مختلف اکاؤنٹس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ 
 

اس گروپ نے مارک زکربرگ کے ٹوئٹر٬ انسٹاگرام اور پنٹرسٹ جیسی متعدد سوشل میڈیا ویب سائٹس موجود اکاؤنٹس پر حملہ کیا ہے-

اورمائن نامی ایک ہیکر گروپ نے مارک زکربرگ کو اپنے پیغام میں کہا ہے کہ “ ہم صرف آپ کی سیکورٹی کی جانچ کر رہے تھے اور ہم نے آپ کے ٹوئٹر، انسٹاگرام اور پنٹریسٹ اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ 

ہیکروں کی جانب سے یہ پیغام فیس بک کے بانی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کیا گیا ہے-

زکر برگ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ سے سنہ 2012 استعمال نہیں کیا جارہا تھا-
 

تاہم یہ بات ابھی تک واضح نہیں ہے کہ فیس بک کی ہی ملکیت انسٹاگرام پر موجود زکر برگ کا اکاؤنٹ بھی ہیک ہوا ہے یا نہیں۔
Read More

تارکول سے بھری جھیلیں٬ مگر ان میں ایسا کیا ہے؟ جانیے

7:14 pm 0


دنیا بھر میں پائی جانے والی عجیب جھیلوں میں سے چند جھیلیں ایسی بھی ہیں جو پانی کے بجائے معدنی تارکول ( Asphalt ) سے بھرپور ہیں- معدنی تارکول وہی میٹریل ہے جو سڑکوں کی تعمیر میں استعمال کیا جاتا ہے- معدنی تارکول سے بھرپور جھیلوں کی گہرائی میں متعدد راز چھپے ہوئے ہیں٬ وہ کیا ہیں؟ یہ ہم آپ کو آگے چل کر بتائیں گے پہلے آپ کو تارکول اور اس کی جھیلوں کے حوالے سے بنیادی معلومات سے آگاہ کریں گے-

آج کل زیادہ معدنی تارکول پیٹرولیم سے حاصل کیا جاتا ہے جبکہ حقیقت میں یہ قدرتی طور پر زمین کی تہہ سے دریافت ہوتا ہے- تاہم کبھی کبھی یہ زمین سے بہنا شروع ہوجاتا ہے اور ایک جھیل کی شکل اختیار کرلیتا ہے- 
 

معدنی تارکول کی بڑی جھیلوں کی تعداد بہت کم ہے اور دنیا کی سب سے بڑی تارکول کی جھیل جنوبی مغربی Trinidad کے گاؤں La Brea میں واقع ہے- اس جھیل کو Pitch Lake کے نام سے جانا جاتا ہے-

یہ جھیل 40 ہیکٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے اور 75 میٹر گہری ہے- تارکول مائع شکل میں ہوتا ہے لیکن موٹا یا گاڑھا ہوتا ہے اور آپ کی سطح پر چل بھی سکتے ہیں لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ زیادہ دیر اس پر کھڑے ہونے سے آپ آہستہ آہستہ ڈوبنے لگیں گے- 

ایک اندازے کے مطابق اب تک 10 ملین ٹن تارکول اس جھیل سے نکالا جاچکا ہے جبکہ 6 ملین ٹن تارکول اب بھی باقی ہے-
 

یہ جھیل سیاحوں کی توجہ کا مرکز بھی ہے اور ہر سال یہاں 20 ہزار سیاح آتے ہیں- بعض سیاح تو اس جھیل میں تیراکی بھی کرتے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہوتا ہے کہ ان جھیلوں میں شفایابی کی خصوصیات پائی جاتی ہیں-

ان جھیلوں کی گہرائی میں آخر کیا راز دفن ہے؟
ماہرین ارضیات اور تیل مافیا کی مانند رکازیات اور طبعیات کے ماہرین کے لیے بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہیں کیونکہ ان جھیلوں کی گہرائی میں ہزاروں سال پرانی زندگی دفن ہے-

گزشتہ ہزاروں سال کے دوران ان جھیلوں نے انتہائی لمبے دانتوں کی حامل بلیاں٬ ہیبت ناک بھیڑیے٬ بھینسے٬ گھوڑے٬ کچھوے٬ گھونگھے اور سینکڑوں اقسام کے جانور جن میں ریڑھ کی ہڈی اور بغیر ریڑھ کی ہڈی والے جانور شامل تھے٬ نگلے ہیں-
 

ان جانوروں میں ہزاروں سال پرانا ہاتھی نما جانور بھی شامل تھا جسے mammoth کے نام سے جانا جاتا تھا اور اس کا ڈھانچہ جھیل دریافت بھی کیا گیا ہے-

ماہرین کے مطابق ممکن ہے کہ یہ جانور ان جھیلوں پر غذا کی تلاش میں آئے ہوں اور ان میں پھنس کر اپنی جان گنوا بیٹھے- یقیناً یہ مرنے کا ایک دہشت ناک طریقہ ہے لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے تارکول میں ان جانوروں کے ڈھانچے محفوظ حالت میں رہے ہیں-
 

ان جھیلوں کی گہرائی سے اب تک متعدد جانوروں کے ڈھانچے دریافت کیے جاچکے ہیں- سب سے عام اور بڑا جانور معدنی تارکول کی La Brea pits نامی جھیل سے دریافت کیا گیا جو کہ ایک ہیبت ناک بھیڑیا تھا- اس کے علاوہ بڑے دانتوں کی حامل بلیاں بھی دریافت ہوئیں- اس جھیل سے پرندوں کے ڈھانچے بھی دریافت ہوئے جن میں عقاب٬ سارس٬ کرگس اور گدھ شامل تھے-

ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ معدنی تارکول کی ان جھیلوں سے ہزاروں سال پرانے درخت اور پودے بھی بہترین حالت میں دریافت ہوچکے ہیں- 

لیکن ان دریافتوں میں سب سے ناقابل یقین دریافت تھی ایک خاتون کی لاش جو 10 ہزار سال پرانی تھی- تحقیق دانوں کا خیال ہے کہ یہ لاش کسی قربانی یا رسم کے تحت اس جھیل میں پھینکی گئی ہو-
 

ماضی میں ان جھیلوں سے دریافت ہونے والی ہڈیوں کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جاتی تھی- تاہم جب 1901 میں سائنسدانوں نے ان جھیلوں پر تحقیق شروع کی تو یہ انکشاف ہوا کہ یہ ہڈیاں مختلف جانوروں کی ایسی اقسام کی ہیں جن کا دنیا میں اب کوئی وجود نہیں- 

اس کے بعد ان ہڈیوں اور ڈھانچوں کو عارضی طور پر لاس اینجلس کے نیچرل ہسٹری میوزیم میں رکھا جانے لگا- لیکن کچھ عرصے بعد کاؤنٹی کے George Alan Hancock نامی میوزیم میں جانوروں کے ان ڈھانچوں کو محفوظ بنایا گیا-
Read More

Saturday, 2 July 2016

بنگلہ دیش میں پھانسیاں۔۔۔ سزا ہی صرف پاکستانیت کی

2:11 am 0



ایک اور وفادار پاکستانی پھانسی چڑھ گیااُسے سزا ہی صرف پاکستانیت کی دی گئی ۔مطیع الرحمان امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش تھے نہ صرف پاکستان کے وفادار تھے اور پاکستان کے خلاف کام کرنے والوں میں شامل نہ ہوئے بلکہ 1971 کے مشکل ترین حالات میں بھی پاکستان کی حفاظت کے ہراول دستے میں شامل رہے وہ اُن لوگوں میں سے تھے جنہوں نے دشمن یعنی بھارت اور اِس کی پروردہ مکتی باہنی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے بلکہ ڈٹے رہے۔شیخ مجیب اور اس کے ساتھی غداروں کو لیڈر ماننے سے انکار کیا اور حکومتِ وقت اور افواج مملکت کی مدد کی۔بد قسمتی سے ان محب وطن پاکستانیوں کی قربانیاں بھی رنگ نہ لائیں اور غدار مجیب اور اس کا ٹو لہ کامیاب ہو گیااور پاکستان دو لخت ہو گیا۔ہندوستان جو عرصہ دراز سے مشرقی پاکستان میں نفرت پھیلا رہا تھا اور بنگالیوں کو پاکستان کے خلاف کرتا رہا نے اپنا مقصد حاصل کر لیا۔ یہ محب وطن پاکستانی ظاہر ہے کہ بھارت اور اس کے نمک خواروں کے زیر عتاب آئے، شیخ مجیب نے جماعت اسلامی کی سیاست پر پابندی لگادی ،یہ سارے محب وطن پاکستانی بنگلہ دیش چھوڑ کر چلے گئے اور سات سال تک باہر رہے۔ انہی محب وطن پاکستانیوں میں الشمس کے مطیع الرحمان بھی تھے جب جنرل ضیاالرحمان کی حکومت آئی تو ان رہنماوءں کو واپس آنے کی اجازت دے دی گئی یوں یہ لوگ 1978 میں واپس وطن آگئے، جماعت اسلامی کی سیاست پر سے پابندی اٹھالی گئی اور یہ لوگ پھر سے بنگلہ دیش کی سیاست میں سر گرم ہو گئے نہ ملک کے خلاف کوئی سازش کی نہ ایساالزام ہی ان پر لگا بلکہ یہ ملکی سیاست میں فعال کردار ادا کرتے رہے پارلیمنٹ کے ممبر بھی بنے اور حکومت میں بھی شریک رہے۔مطیع الرحمان نظامی بھی انہی لوگوں میں شامل تھے یہ پبنا سے تین بار پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے وزیر زراعت بھی رہے اور وزیر صنعت بھی2001تا2003 وزار ت زراعت اور 2003تا2006وزارت صنعت کا قلمدان ان کے پاس رہا ۔اس دوران انہوں نے دوسرے ممالک کے ساتھ معاہدے بھی کیے اور اپنے ملک میں بھی کئی منصوبے شروع اور مکمل بھی کیے اسی دوران بنگلہ دیش یورپی یونین کو گارمنٹس برآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک بھی بنا تو کیا یہ سب بھی ملک سے غداری تھی۔ مسئلہ غداری اور ملک دشمنی کا نہیں بلکہ شیخ مجیب کی بیٹی حسینہ واجد کا ہے جس کے خون میں پاکستان دشمنی شامل ہے اور جس نے برسر اقتدار آکرچالیس بیالیس سال بعد جنگی جرائم کے نام پر اُس وقت کے وفادار پاکستانیوں اورآج کے محب وطن بنگلہ دیشیوں پر مقدمات چلائے اور انہیں پھانسی چڑھایا۔ایسا کرنے کے لیے کسی کا مجرم ہونا اہم نہیں تھا بلکہ زیادہ اہمیت اس بات کی تھی کہ ان لوگوں نے کسی زمانے میں جب وہ پاکستانی تھے پاکستان کے دشمنوں سے جنگ کی تھی جبکہ شیخ حسینہ کا باپ ان دشمنوں کا سر غنہ تھا۔مطیع الرحمان سے پہلے وہ اسی ذاتی دشمنی ،بغض اور عناد کے بھینٹ عبدلقادر ملا،قمرالزمان،علی احسن مجاہد اور صلاح الدین چوہدری کو چڑھاچکی ہے۔ اس نے آٹھ ایسے افراد پر یہ مقدمات قائم کیے جن میں جناب مطیع الرحمان نظامی جماعت اسلامی کے اُس وقت کے سر کردہ رہنماوءں میں آخری تھے جنہیں 11مئی 2016کو پھانسی دے کر حسینہ واجد نے بظاہر اپنا مشن مکمل کر لیااور میرے خیال میں اپنی حکومت اور سیاست کا مقصد بھی حاصل کر لیا لیکن اُس کی پاکستان دشمنی کو اب بھی قرار نہ آیا ہو گا وہ اپنے اور اپنے باپ کے مربی بھارت کی خواہشات کے حصول کے لیے اب بھی بر سر پیکار رہے گی وہ نہ صرف بنگلہ دیش کے محب وطن پاکستانیوں کو ختم کرنے کے مشن پر لگی ہوئی ہے بلکہ پاکستان میں بھی سازش میں مصروف ہے اور پاکستان میں ہی موجود چند پاکستانیوں کو بھی اس مقصد کے لیے استعمال کر چکی ہے اور آئندہ بھی کرے گی ان پاکستانیوں کو شیخ مجیب اور بھارت کے مشن کو آگے بڑھانے پر اُس نے ایوارڈز دیئے جو انہوں نے بڑے فخر سے وصول کیے اور اس کے لیے توجیہہ دی کہ یہ انسانیت کی خدمت اور ’’قتلِ عام‘‘ کے خلاف بولنے پر دیے گئے ویسے سوال یہ بھی ہے کہ کیا اب یہ ایوارڈ وصول کنندہ انہیں اسی بنا پر واپس کریں گے کہ بنتِ غدار حسینہ واجد نے اپنے ملک میں پاکستا ن کو بد نام کرنے، اس کے خلاف کام کرنے اور اس کا نام لینے والوں کے خلاف زہریلی مہم شروع کر رکھی ہے اُس نے اپنے باپ کے کیے ہوئے معاہدے کی بھی پرواہ نہیں کی10اپریل 1974کو ہونے والے اس معاہدے کی رو سے پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کوئی بھی کسی بھی قسم کے جنگی مقدمات 1971کے حوالے سے قائم نہیں کریں گے لیکن حسینہ واجد جسے کل بھی پاکستان کے خلاف بھارت کی مدد حاصل تھی اور آج بھی ہے ایسا دھڑلے سے کر رہی ہے بلکہ اُس کی حکومت نے یہ بھی منصوبہ بنایا ہے کہ پاک فوج کے 195افسران کے خلاف بھی ان کی غیر حاضری میں مقدمات دائر کرے گی جنہوں نے 1971کی جنگ میں اہم عہدوں پر کام کیا اور فوج کی کمان کی۔اس نے معمر افراد کو پھانسی پر چڑھایامطیع الرحمان کو تہتر سال کی عمر میں پھانسی دی گئی ،عبدالقادر ملا کو پینسٹھ، علی احسن مجاہد کو ستاسٹھ اورقمرالزمان کو باسٹھ سلام کی عمر میں پھانسی دی گئی۔انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی ان سزاوءں پر اعتراض اور احتجاج کیا ترکی نے اپنے سفیر کو بنگلہ دیش سے واپس بلایا لیکن ایوارڈ یافتہ گان پاکستانیوں کے ایوارڈ وصول کنندہ اولادوں نے احتجاجاَ کوئی ایوارڈ واپس نہیں کیا کیونکہ یوں انہیں اپنے ملک میں عزت تو مل سکتی تھی ان کے ملک کے دشمن اور ان کی ذات کے دوستوں کی ناراضگی یقینی تھی انہوں نے اسے ہر گز انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں سمجھا شاید وہ اسے دوسروں کے معاملات میں مداخلت سمجھتے ہوں لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے ملک کے بارے میں کیا کہا اور کیا جارہا ہے ظاہر ہے کہ یہاں اُن کے ذاتی مفادات پر چوٹ پڑتی ہے اور ملکی مفادات کی اُن کے لیے کوئی اہمیت نہیں۔

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنماوءں کی پھانسی دراصل جماعت اسلامی نہیں بلکہ پاکستانیوں کی سزا اور پاکستان کے خلاف سازش اور نفرت ہے لہٰذا اس پر پوری پاکستانی قوم اور حکومت کو سخت احتجاج کرنا چاہیے۔ وزارتِ خارجہ میں بنگلہ سفیر کو بلا کر احتجاج ریکارڈ کرا دینا کافی نہیں حکومت کو حسینہ واجد کو سخت جواب دینا ہو گا میںیہ نہیں کہتی کہ پاکستان میں مو جود بنگالیوں کے ساتھ بُرا سلوک کیا جا ئے لیکن کیا پاکستان کے پاس ایسے بنگالیوں کی فہرستیں نہیں جنہوں غیر بنگالی مغربی پاکستانیوں اوربہاریوں کا قتل عام کیا۔کیا شیخ مجیب پر بعد از مرگ غداری کا مقدمہ قائم نہیں کیا جا سکتا اور اگر بنگلہ دیش 195پاکستانی افسران کے خلاف مقدمہ صرف پاکستان دشمنی میں قائم کرنے کی دھمکی دے رہا ہے تو اُن 203بنگالیوں جنہوں نے مغربی پاکستان میں رہ کر پاکستان کے خلاف کام کیا کے خلاف کیوں نہ پاکستان مقدمہ دائر کرے جیسا کہ اُس وقت بھی کہا گیا تھا۔سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ ہر بار پاکستان کو شکست تسلیم کرنا پڑے گی اور بغیر کسی عملی احتجاج کے اپنے ملک کی سبکی پر دو چار جملے بول کر چپ ہو جانا ہو گا۔کیا اس بار ایسا نہ کیا جائے کہ حسینہ واجد کی حکومت تک بنگلہ دیش کے ساتھ معاملات یا سخت کر دیے جا ئیں یا منقطع کر دیے جائیں۔تین بار بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان آکر کھیلنے کے معاہدے پر عمل نہیں کیا،تو کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ اب کی بار ہم ایسا کر لیں اور انکار کر دیں، آخر اُن سے نہ کھیل کر ہمیں کتنا بڑا نقصان ہو جائے گا ، کیا ثقافتی تعلقات بھی منقطع نہیں کیے جا سکتے،کیا اچھا نہ ہو کہ اِن وفادار پاکستانیوں کے لیے حکومتِ پاکستان ہی اعلیٰ ترین سول اعزازات کا اعلان کر کے اُن کا حق ادا کرے جنہوں نے پینتالیس سال پہلے پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑی تھی اور اسی کی سزا میں انہیں بڑھاپے میں تختہ دار پر چڑھا دیا گیا اورکیا حکومت کو اس معا ملے کو دنیا کے بڑے بڑے فورمز پر نہیں اٹھانا چاہیے آخر کب تک ہم اپنے قومی وقار پر سمجھوتہ کرتے رہیں گے۔یاد رکھیے ان رہنماوءں کی پھانسی بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کا معاملہ ہے اور اگر ہم ہر بار پاکستان کے معاملے کو یوں آسانی سے چھوڑتے اور معاف کرتے جائیں گے تو وقت ہمیں معاف نہیں کرے گا اور نہ ہی ہمیں کسی شکایت کا حق حاصل ہو گا یہی وقت ہے کہ ایک مضبوط قوم اور ریاست کی طرح اپنے قومی وقار کی حفاظت کی جائے۔
Read More

Friday, 1 July 2016

خواتین کے ٹاپ ٹین ۔۔۔۔۔۔ مسئلے

3:45 pm 0



کہا جاتا ہے کہ ایک آدمی کی زندگی میں مسائل ہوتے ہیں کہ بجلی کا بل، گیس کا بل، سی این جی کی ہڑتال، یوٹیلٹی سٹور کا بل، بچوں کی فیسیں، بہنوں کی شادیاں وغیرہ وغیرہ مسائل ہوتے ہیں جبکہ ایک خاتون کی زندگی کا مسئلہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دونوں آنکھوں پر لائنر برابر نہیں لگ رہا۔

خود خاتون ہونے اور کئی درجن خواتین کے ساتھ کام کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ خواتین کے کچھ مسائل ایسے ہیں جو کہ کسی بھی قسم کی خاتون کسی بھی معاشی طبقے سے تعلق رکھنے والی ہو اسکو لاحق ضرور ہوتے ہیں۔

1۔ ہائے سسرالی
یہ مسئلہ خواہ خاتون بیاہہتا ہو یا نہ ہو، اسکے ساتھ موجود رہتا ہی ہے۔ کچھ کو آںے والے وقت میں انکے ہہتھے چڑھنے کے خوف سے اور کچھ کو انکے ہتھے چڑھ چکنے کی کوفت سے۔

یہ سچ ہے خاتون شاید لال بیگ سے بھی اتنی خار نہ کھاتی ہو جتنی کہ سسرالی رشتے داروں سے کھاتی ہے۔

سسرالیوں کی آؤبھگت اور انکی ہر کام میں ٹانگ اڑانے کی عادت ہر خاتون کی زندگی کا لازم و ملزوم حصہ ہیں۔

2۔ہائے مٹاپا
ہمارے ہاں کھانے کچھ اس طرح کے نوش کئے جاتے ہیں کہ وہ بھی خاصے بھاری ہوتے ہیں اور کچھ ہمارا معاشرہ ان خاتون کو چار بچوں کی اماں نہیں مانتا جنکا پیٹ اور ویٹ خاصا ذیادہ نہ ہو۔

یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں کہ مٹاپا اور بڑھاپا سیاپا ہی ہوتے ہیں۔

مٹاپا جب ایک دفعہ آجائے پھر جان چھڑانا خاصا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی لئے ٹیلیویژن پر خواتین کے لئے ایک طرف کھانے پکانے اور دوسرری طرف پتلا کرنے والی ادویات کے اشتہارات برابر برابر چلتے رہتے ہیں کہ جو بھی اپنانا چاہیں اپنا لیں۔

3۔ ہائے مُنے
انسان کے بچے اب انسانوں سے ذیادہ خود کو ٹرزن کے بچے ثابت کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ ان مُنوں کو نہ انکے ابا جی کبھی پکڑنا چاہتے ہیں اور دادی بڑھاپے کے باعث پکڑ نہیں پاتیں۔

پر یہ منے تگنی کا ناچ نچانا جانتے ہیں۔ ن سسے بچنا مشکل ہی نہیں ناممکن سا ہے۔ جب ایک دفعہ یہ زندگی میں آجائیں تو انکو کسی نہ کسی طرح خوب لمبا چوڑ محنت کے بعد بنانا پڑتا ہے۔

اس دوران جن مراحل سے یہ گزارتے ہیں اس بات کو صرف وہی سمجھتے ہیں جو ان کو اتنا بڑا کرتے ہیں۔ مگر ہم خواتین کو باہر جانا ہو ڈررامہ دیکھنا ہو کچھ پکانا ہو پیکج اڑانا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی بھی کام کو تنہا نہیں کرنے دیتے۔ ہر کام میں اپنی پھوپھیوں کی طرح ٹانگ اڑانا ضروری سمجھتے ہیں۔

4۔ ہائے مُنےکے ابا
مُنا تو جو سیر ہے سو ہے اسکا ابا سوا سیر ہے جب تک بات بات پر آواز دے دے کر دن خراب نہ کر لیں چین نہیں لیتے۔ ویسے بھی مُنے کے ابا کے بارے میں کہا یہی جاتا ہے کہ ساس صاحبہ جب اپنا بگڑا بچہ خود نہیں پال سکتیں تو بہو کے حوالے کر دیتی ہیں۔

5۔ ہائے خرچے
خرچے پورے نہ پڑنے کا چرچا دن بہ دن تو بڑھتا جا رہا ہے اور خواتین کا مسئلہ یہ ہے کے منے کے ابا نے خود تو لگا بندھا خرچا دے کر ایک طرف ہو جانا ہوتا ہے اور پورا مہینہ اماں سولی پر لٹکی رہتی ہے۔

شادی بیاہ، دینا دلانا، کھانا کھلانا، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب کام اماں جی نے کرنے ہوتے ہیں۔

اسی لئے اماں جی خرچوں کی کمی کا رونا روتی ہیں پر مجال ہے ابا جی کان دھریں

6۔ ہائے وقت
خواتین کے ذمے تو جتنے اور جیسے کام ہوتے ہیں اڑتاالیس گھنٹے کا دن بھی کم پڑ جائے۔ مگر کیا کیجیے یہی تو زندگی ہے کہ صبح کا مارننگ شو اور پرائم ٹائم کے ڈرامے نہ دیکھے جائیں تو زندگی گزرے بھلا کیسے۔

7۔ ہائے کام والی
کام والی نے جتنا تنگ معصوم خاتین کو کرنا ہوتا ہے شاید ہی کبھی کوئی اور کرتا ہو۔ سونے کے وقت پر آنا ،شو کے ٹائم پر آنا ، بلا وجہ کی چھٹیاں مارنا، بات بے بات مہینے کے دوران پیسے مانگنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سارے مسائل خواتین کو اکیلے ہی حل کرنے پڑتے ہیں اور کام والیوں کے ساتھ بر سر پیکار رہنا پڑتا ہے۔

8۔ ہائے بیماریاں
موٹاپا تو ایک بیماری ہے ہی۔۔۔۔مگر اسکے علاوہ جوڑوں کی ، گوڈوں کی، کمروں کی کوئی نہ کوئی بیماری خواتین کو ضرور لاحق ہوتی ہے۔

اس بیماری کا سب سے بڑا فائدہ میاں جی کی توجہ حاصل کرنا اور بے وقت کے مہمانوں کو بھگانا ہے۔

9۔ ہائے شاپنگ
یہ وہ چیز ہے جو جتنی بھی ذیادہ ہو کم ہے۔ حضرات تو ویسے بھی اس سے چڑتے ضرور ہیں اور خواتین کرتی ضرور ہیں۔

اسی لئے آنے والے سیزن کا آدھا وقت جانے والے سیزن کی شاپنگ اور باقی آدھا موجودہ سیزن کی شاپنگ میں گزرتا ہے۔

10۔ ہائے زندگی
یہ جتنی تنگ اور کم خواتین کو لگتی ہے۔۔۔۔ یہ ایک خاتون کا دکھ دوسری خاتون ہی سمجھ سکتی ہے۔
Read More

لگ جا بیٹا لائن میں

3:44 pm 0





’’ہمارے یہاں عقلمندوں کی کمی نہیں، ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔‘‘
’’جب ہزار ملتے ہیں تو پھر ڈھونڈنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘
’’ اسی لیے ڈھونڈنے کی زحمت نہیں کی جاتی بلکہ جو مل جائے اسی سے کام چلا لیا جاتا ہے۔‘‘
’’ ایسا کیا ہوگیا ، کچھ بتاؤ گے بھی یا پہیلیاں ہی بھجواتے رہو گے؟‘‘
’’ اب دیکھو ناں ہمارے ملک میں جو عقلمند ملتے ہیں وہ عوام کے خادم نہیں بلکہ عوام کے حاکم ہوتے ہیں ۔اسی لیے وہ عقلمندی کے ایسے جوہر دکھاتے ہیں کہ جس سے عوام کے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔‘‘
’’ ایسا کیا ہوگیا جو تم ایسی بہکی بہکی باتیں کررہے ہو؟‘‘
’’وارداتیں ہورہی ہیں یا ہونے کا خطرہ ہے تو ڈبل سواری پر پابندی لگا دو۔ موبائل سے ریکی کی جاتی ہے تو موبائل کا نیٹ ورک بند کردو۔ بجلی کی ادائیگی کسی علاقے میں کم ہورہی ہے تووہاں پر لوڈشیڈنگ کرو۔ آٹا مہنگا ہے تو ڈبل روٹی کھا لو۔ ‘‘
’’ واقعی یہ بات تو تم نے ٹھیک کہی۔لیکن اصل بات کیا ہے تم وہ کرو۔یہ پرانی باتیں ہیں۔‘‘
’’عوام کے نصیب میں دربدر کی ٹھوکریں کھانا لکھا ہے۔کبھی یوٹیلٹی بلوں کے لیے لائن میں لگایا جاتا تھا، کہیں گیس بھروانے کی لائن میں لگایا گیا ،کہیں پیٹرول نایاب کرکے لائن میں لگا یا گیا،کہیں سم رجسٹریشن کے نام پر لائن میں لگایا گیا، کہیں ووٹ ڈالنے کے لیے لائن میں لگایا ، کئی لائسنس کے لیے لائن میں لگایا اور کہیں شناختی کارڈ کے حصول کے لیے نادرا کی لائن میں لگایا ۔‘‘
’’جو قوم لائن پر نہیں آتی پھر اسے اسی طرح لائن میں لگایا جاتا ہے۔تم یہ بتاؤ کہ ابھی کون سی لائن لگنے والی ہے؟‘‘
’’سنا ہے چھ ماہ میں شناختی کارڈ کی دوبارہ تصدیق ہوگی۔‘‘
’’ٹھیک سنا ہے۔‘‘
’’مطلب ایک بار پھر دوبارہ سے لائن میں لگ کر تصدیق کرنی ہوگی؟‘‘
’’ اب تک تو آپ کو لائن میں لگنے کی عادت ہوجانی چاہیے تھی۔ لیکن چونکہ یہ قوم لائن میں لگنے کی عادی نہیں اس لیے یہ عمل بار بار دہرایا جاتا ہے۔‘‘
’’اب آپ کیا چاہتے ہو بغیر لائن کے تمہارا کام ہوجائے؟ بھلا یہ کیسے ممکن ہے؟آپ زرداری کی بیٹے بلاول تو نہیں ہیں یا آپ شریف خاندان سے تو تعلق نہیں رکھتے جو آپ بغیر لائن میں لگے اپنا کام کروا سکیں۔‘‘
’’تو پھر ایک کام کیوں نہیں کرتے۔ سب کو لائن میں لگا کر چار چار جوتے کیوں نہیں لگائے جاتے تاکہ سب کی عقل ٹھکانے آجائے‘‘
’’ایسی ذلت بھلا کون پسند کرے گا؟‘‘
’’ ذلت عوام کا مقدر ہے کیونکہ ان کے پاس شعور نہیں ۔ انہوں نے اس کو اپنا نصیب سمجھ لیا ہے اور کوئی یہ نہیں کہتا کہ یہ عقلمند ہم پر کیوں حکومت کررہے ہیں جو ہمارے ووٹ لے کرآتے ہیں اور ہمارے ہی پیسوں پر پلتے ہیں اور ہمارے درمیان اس طرح وی آئی پی انداز میں نکلتے ہیں جیسے یہ انسان ہیں اور ہم سب گدھے۔ان کی جان کی قیمت ہے اور ہم چیونٹیاں ہیں جس کے چاہے پاؤں تلے روندھے جائیں۔‘‘
’’تو تمہارے خیال میں عوام کیا کرسکتی ہے؟‘‘
’’ کہہ تو رہا ہوں چار جوتے سب کو لگائے جائیں کیونکہ سب کو جلدی ہے۔ کسی کے پاس ان حکمرانوں سے پوچھنے کا وقت نہیں کہ یہ سب ہمارے لیے ہی کیوں ہے ……کیا حکمران بھی اس لائن میں لگتے ہیں؟‘‘
’’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا……آج تو تم لیڈروں جیسی باتیں کررہے ہو۔ کہیں الیکشن لڑنے کا پروگرام تو نہیں؟‘‘
’’شناختی کارڈ کی تصدیق توضروری ہے یہ ملکی سا لمیت کا معاملہ ہے۔‘‘
’’ جن لوگوں نے جعلی شناختی کارڈ تصدیق کرکے بنوا لیے ہیں کیا وہ دوبارہ تصدیق نہیں کرواسکتے۔بجائے نظام ٹھیک کرنے کے آپ نظام الدین کو ٹھیک کرنے میں لگے ہیں بھلا اس طرح بھی کچھ حاصل ہوگا؟‘‘
’’ جب تک یہ عقلمند موجود ہیں یہ نظام کبھی ٹھیک نہیں ہوسکتا، یہ بات نظام الدین کو سمجھنی ہوگی ورنہ……‘‘
’’ورنہ لگ جا بیٹا لائن میں……‘‘
٭……٭
Read More

میری دس سیریئیس باتیں

6:31 am 0



1
کارآمد ٹپ
اگر سو سو کر تھکن ہو جائے اور اٹھ کر بھی کچھ نہ کرنے کا دل کرے تو تھوڑا سا اور سو جانا چاہئے۔۔۔ سیریسلی پھر تھوڑا سا اور سو کر انسان ٹھیک ہو جاتا ہے
2
پاکستان میں ایسی ایسی Princexxx پائی جاتی ہیں
جو اپنے گھر کا مینیو تک خود بنانے کے لئے آزاد نہیں
3
پھو پھو کے آنے اور لائٹ کے جانے کا کوئی وقت مقرر نہیں
4
عورتوں کی یادداشت اور برداشت اچھی ہوتی ہے
مگر کس معاملے میں یہ عورتوں پر منحصر ہے
5
ہم سب کے اندر ہی عمران خان والی اکھڑ ضد اور نواز شریف والی ماٹھی سی بھڑکیں موجود ہوتی ہیں بس حالات دیکھ کر باہر کبھی کبھی آتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حکمرانوں کی شب و روز ہی جاری رہتی ہیں
6
فلٹر سے تصویر پر اتنا فرق پڑ جاتا ہے
جتنا فائزہ بیوٹی کریم اور
Loreal
کی ماڈل میں ہوتا ہے
7
پہلے زمانے میں غم کا اظہار کرنے کے لئے انسان باغوں کے درخت اور چاک استعمال کرتے تھے
اب فیس بک اور انٹرنیٹ کنکشن استعمال کیا جاتا ہے
8
ہمارے معاشرے میں
ناک اونچی کرنے کے دو مواقع ہوتے ہیں
آپکے بچے کے بورڈ میں نمبر وا وا ہوں
آپکے بچے کی شادی پہ خرچا وا وا ہو
9
 عشق، مُشق اور  leadership qualities چھپائے نئیں چھپتے
10
 پاکستان کے موسم کا ببھی سیاست کی طرح کوئی اعتبار نئیں
Read More